واصف القادری خیرآبادی ثم نانپاروی
حضرت سید عبدالوارث مشہود علی واصف ؔالقادری کی پیدائش 13مارچ 1917ءمیں بہرائچ ضلع کی ریاست نانپارہ میں محلہ توپ خانہ ،نانپارہ میں ہوئی۔ آپ کا آبائی وطن خیرآباد ضلع سیتاپور تھا۔آپ کے والد مولانا حاجی حافظ سید مقصود علی شاہ چشتی نظامی نقشبندی خیرآبادی درگاہ غوثیہ میں معتمد کے عہد ے پر فائز تھے۔
والد محترم
مولانا الحاج حافظ مقصود علی شاہ رضوی چشتی نظامی خیرآبادی رحمۃاللہ علیہ کی ولادت سن 1859 میں خیرآباد میں ہوئی آپکو انکے والد محترم حضرت سید شاہ حافظ نیاز علی شاہ خیرآبادی نے سن 1872 میں محض 13 سال کی عمر میں علم حاصِل کرنے کے لیے مدینہ کے سفر پر بھیج دیا اپنے وہی علم و دین حاصِل کرکے سندل قرآن حاصِل کیا اور وہاں کے بزرگوں سے فیض و برکات حاصل کیے اپنے اپنی زندگی کے 19 سال وہی گزرے اور ساتھ ساتھ آپکو مسجدِ نبوی میں اذان دینے کا شرف حاصِل ہے ، جن بزرگوں سے آپکو اجازت اور خلافت حاصِل ہے انکے اسمِ گرامی اس طرح ہے ،
1 والد ماجد مولانا حافظ سیّد نیاز علی شاہ خیرآبادی
2 حاجی امداد اللہ مہاجر المکی رحمۃاللہ ۔
3 شیخ الدلائل مولانا محمد عبدل حق الہابدی مہاجر المکی رحمۃاللہ۔
4 سیّد فرمان علی شاہ
5 حکیم سید احمد علی نظامی خیرآبادی
6 حضرت وزیر علی شاہ گوالیری۔
7 مولانا سید اظہر علی سندیلوی ۔
سلسلہ حافظیہ سلیمانیہ چشتیہ فخریہ نظامیہ میں اپنے حضرت ولایت احمد صاحب لحرپری کو خلافت دی ۔ آپکے والد ماجد سیّد نیاز علی شاہ کو اسی سلسلے میں حضرت حافظ اسلام چشتی حسنولحسینی خیرآبادی رحمۃاللہ سے خلافت حاصِل تھی اور والد صاحب سے آپکو حاصِل ہوئی تھی۔۔مکہ اور مدینہ سے جب آپ 1891میں واپس خیرآباد اے اور وہی کچھ سال رہنے کے بعد ایک پیغام آپکو ملا کی ریاست نانپارہ کے راجا جنگ بہادر خان صاحب نے نانپارہ میں جامع مسجد کے امام کی ضرورت ہے اور درگاہ غوثیہ کا ذمےدار ہونا چاہئے جو ذات کا سیّد ہو عالم حافظ ہو اور کم سے کم ساتھ حج کیے ہو تو کافی تالش کے بعد معلوم ہوا کی خیرآباد۔ میں ایک شکش ہے راجا صاحب کے اسرار پر آپ خیرآباد سے نانپارہ آکر بس گے ۔وہ دور سن 1900 کا تھا ۔آپکا انتقال 1930 میں ہوا اور تدفین لہر پر قصبے میں شاہ مزا شاہ قلندر رحمۃاللہ کی درگاہ میں ہوئی انکی مزار آج بھی وہاں موجود ہے۔ اسکی سند واصف نانپاروی کے گھرانے میں آج بھی محفوظ ہے۔
عرفان عباسی لکھتے ہیں کہ ”خیرآباد کے مشہور شاعرریاضؔ خیرآبادی، مضطرؔ خیرآبادی نیّرؔ خیرآبادی وغیرہ آپ کے عزیزوں میں سے تھے۔واصف صاحب کا نسبی تعلق خیرآباد کے سلسلہ قادریہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ سید مخدوم نظام الدین الہدیہ عرف چھوٹے مخدوم صاحب سے تھا۔ آپ کا سلسلہ مخدوم الہدایہ قدس سرہ سے ملتا تھا۔ آپ کےخاندان میں علم و فضل شعروادب اور تصوف کا شروع ہی سے چرچا رہا اور آپ کے خاندان میں مشاہیر علم و ادب پیدا ہوتے رہے۔ واصف القادری کو بچپن سے ہی گھر میں دینی علمی ماحول ملا ،جس نے آپ کی ذہن کو روشنی،قلب کو تازگی اور روح کوجلا بخشی۔ واصف صاحب نے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی اور اس سے پہلے کہ اعلیٰ تعلیم کی طرف رخ کرتے والد کا انتقال ہو گیا، واصف القادری کی عمر اس وقت 13سال کی تھی۔ والد کی بے وقت کی جدائی نے بچپن میں ہی فکر معاش سے دو چار کر دیا لیکن بلند حوصلوں سے سر بلند کر لیا۔ بعد میں واصف صاحب نے حکمت کا پیشہ اختیار کیا۔ عوام میںآپ کو حکیم کی حیثیت سے پورے شہر میں مشہور ہو گئے۔ لیکن آپ ایک اچھے شاعر کے طور پر بھی مشہور تھے۔‘‘(تذکرۂ شعرائے اتر پردیش جلد 20مطبوعہ 2000ءص306)
واصف ؔالقادری صاحب نے ابتدائے شاعری میں اصغرؔ رشیدی نانپاروی تلمذہ پیارے صاحب رشیدؔلکھنوی سے مشورہ شخن حاصل کیا بعد میں مذہبی شاعری کی طرف رجحان ہوا اور مشق سے کلام میں پختگی محسوس کرنے لگے تو سلسلہ ختم کر کے اپنی ذاتی صلاحیتوں کو رہنما بنا لیا۔ واصف القادری کے بارے میں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ آپ صوفیانہ رنگ میں شعر کہتے تھے۔ واصفؔ القادری نے نعت ،غزل ،رباعیات، قظعات اور مثنوی وغیرہ سبھی اصناف میں کلام لکھے۔ (یہ بھی پڑھیں مشاہیر بہرائچ کا اجمالی تعارف – جنید احمد نور )
عرفان عباسی مزیدلکھتے ہیں کہ واصف القادری نہ مشاعرہ باز شاعر تھے۔نہ پیشہ ور سکون قلب کے لئے احترام و عقیدتکے ساتھ نعت رسولؐ کہتے تھے اور بزرگان دین کی شان میں قصائد کا نذرانہ پیش کرتے تھے۔
آپ کے تین شعری مجموعہ شائع ہوئے جن کے نام اس طرح ہیں۔ مجاز حقیقت،تجلیات حرم ،عزم وایثار ۔
خیرآبادکے مشہورشاعرنجمؔخیرآبادی آپ کے حقیقی بہنوئی تھے۔قمرؔ گونڈوی اور نیپال کے مشہور شاعرنیپال کے سب سے اعلیٰ ادبی انعام یافتہ جناب حاجی عبدالطیف زرگر شوقؔ نیپالی آپ کے شاگردوں میں قابل ذکر ہیں۔ آپ کے بہت سے شاگرد ملک نیپال اور نانپارہ میں ہیں۔
قمر ؔ گونڈوی لکھتے ہیںکہ 1952ء
Comments
Post a Comment